شیخ عبدالاحد کا مختصر تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ عبدالاحد کا مختصر تعارف

نسب نامہ اور جائے پیدائش
آپ کا نام اسم گرامی عبد ا لاحد بن عبد القدوس بن محمد نذیر بن ابراہیم السعدی ہے۔

آپ کی پیدائش ۱۹۷۶ ؁ء میں ہندوستان کے صوبہ اتر پردیش ضلع سدھارتھ نگر کے موضع کمہریا میں ہوئی اور وہیں آپ کی پرورش وپرداخت ہوئی اور اسی گاؤں کے مدرسہ مفتاح العلوم میں ابتدا ئی تعلیم حاصل کی۔

 

 

دیار عرب کا سفر اور تعلیم وتربیت کے مراحل
۱۴۰۳ ؁ھ میں اپنے والدین اور دیگر بھائی بہنوں کے ہمراہ آپ سعودی عرب آگئے اور یہیں اپنے والد محترم شیخ ومحدث عبد القدوس بن محمد نذیر کے سائے عاطفت میں تعلیم وتربیت پانے لگے جو کہ سپریم کورٹ میں شرعی باحث کے عہدے پہ فائز تھے، جنہیں سپریم کورٹ کے رئیس علامہ عبد اللہ بن حمید ؒ نہایت ہی معتمد اور مخلص سمجھتے تھے اور ہمیشہ اپنے سے قریب تر رکھتے تھے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ محمد بن سیرین ( جو کہ سعودی عرب کے وزارت تعلیم کے تابع ہے ) سے ۱۴۰۹ ؁ ھ میں حاصل کی پھر متوسطہ وثانویہ کی تعلیم کے دونوں مراحل کی تکمیل معھد العلمی ریاض میں کی اور ۱۴۱۶ ؁ھ میں امتیازی نمبروں سے سند فراغت حاصل کیا واضح رہے کہ آپ کا شمار معہد کے آخری مرحلہ میں مملکت سعودی عرب کے دس ہونہار کامیاب طالب علموں میں تھا۔
بعدازاں یونیورسٹیوں کا رخ کیا اور ۱۴۱۶ ؁ھ میں امام محمدبن سعود ا سلامک یونیورسٹی ریاض میں داخل ہوئے اور ۱۴۲۰ ؁ھ میں ممتاز پوزیشن کے ساتھ کامیاب ہوئے ۔ یہاں آپ اپنے ساتھیوں میں پہلے نمبر پہ رہے پھر سنت اور اسکے علوم یعنی حدیث میں تخصص کیا اور ریاض میں کلیۃ اصول الدین سے ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی آپ کے رسالہ کا موضوع تھا ’’ مرویات آل البیت فی فضائل الصحابۃ جمعا وتخریجا ودراسۃ‘‘ اس رسالہ کا مناقشہ بروز منگل ۲۰ربیع الاول۱۴۳۰ ؁ھ کو کیا گیا ۔ مناقشہ کی مجلس مذکورہ ذیل

شخصیتوں پر شامل تھی:۔

 

۱

۔ مجلس شوری کے ممبر ؍ فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر فالح بن محمد صغیر صاحب۔

۲

۔ یونیورسٹی کے پروفیسر؍ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبدالرحمن الشریف صاحب۔

 

 

۳۔ یونیورسٹی کے استاذ ؍ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حمد بن ابراہیم الشتوی صاحب۔
مزیدا علی تعلیم کے لئے آپ نے حکومت کے مدارس اور یونیورسٹیز کے علاوہ دیگر متعدد مشائخ اور علماء سے بھی استفادہ کیا اور مختلف علوم شرعیہ میں مہارت حاصل کی آپ کے اہم مشائخ میں سے چند شہرہ آفاق اور نامور ہستیاں یہ ہیں ؛ علامہ شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز ؒ ‘ علامہ شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن بن جبرین ؒ ‘ شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ الراجحی صاحب‘ شیخ عبدالکریم بن عبداللہ الخضیرصاحب ‘ شیخ سعد بن عبداللہ الحمیدصاحب اورشیخ محمد بن عبد المحسن الترکی صاحب وغیرہم۔

ما شا ء اللہ آپ حافظ قرآن بھی ہیں حفظ قرآن کریم ۱۴۱۲ ؁ھ میں مکمل کیا اور اس سلسلے میں ’’جمعیہ خیریہ لتحفیظ القرآن‘‘ کے کئی اساتذہ سے استفادہ کیا اور شیخ محمد عبد الرزاق سے حفص کی روایت پر اجازہ حاصل کیا ایسے ہی آپ نے سیریا کے شیخ القراء بکری طرابیشی سے بھی اجازت نامہ حاصل کیا جنکی سند تمام قاریوں میں سب سے معتمد سمجھی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں قرآن مجید کے فنون میں جن بڑے بڑے علماء سے استفادہ کیا ان میں ایک شیخ احمد مصطفی ابوالحسن رحمہ اللہ ہیں جن سے آپ نے جامعۃالامام میں بحیثیت طالب علم استفادہ کیا اسی طرح ایک اور نام شیخ محمد الیاس بن عبدالقادر صاحب کا ہے جو مسجد یحی کے امام ہیں جن کی اقتداء میں فضیلۃ الشیخ علامہ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نماز پڑھتے تھے۔

 

 

ٹریننگ کورسیز
جیسا کہ آپ کو دعوتی کاموں سے بڑا لگاؤ اور انہماک رہا لہذا آپ نے متعدد ٹریننگ لی چند کی تفصیل قابل ذکر ہے۔

۱

:۔ ’’دعوتی منصوبہ بندی‘‘ نامی تدریبی پروگرام میں شرکت فرمائی جسکو ’’ادارہ تطویر التربوی‘‘ منعقد کرتا ہے جسے ڈاکٹر احمد عمر نے پیش کیا۔

۲

:۔ ’’ادارۃ الوقت‘‘ نامی پروگرام میں شرکت کرنا اسے بھی مذکورہ ادارہ نے ہی منعقد کیا اور استاذ ؍ عبد الرحمن مطرودی نے پیش کیا ہے

۳

:۔ غیر مسلموں کو دعوت دینے کا فن (مھارات دعوۃ غیر المسلمین) نامی ٹریننگ کورس میں شرکت کرنا اسے بھی ’’ادارہ تطویر التربوی‘‘ نے منعقد کیا جسے ڈاکٹر شیخ عبد الرحمن بن معلی لویحق نے پیش کیا۔

۴

:۔ دعوتی واصلاحی کاموں سے لوگوں کو جوڑنے کا فن ( مھارات الاتصال الدعوی) نامی دورۂ تدریبیہ میں حاضر ہونا جسے ’’ادارہ حوار الاجیال‘‘ نے منعقد کیا تھا جسے شیخ مرید الکلاب نے پیش کیا۔

۵

:۔ ’’مھارات الداعےۃالمؤثر‘‘ نامی پروگرام میں شرکت کرنا جسے ’’مرکز خطوات النجاح للتدریب‘‘ نامی ادارے نے منعقد کیا۔
سعودی عرب میں دعوتی اور تعلیمی سرگرمیاں

 

۱۴۲۰ ؁ھ میں تعلیم سے فراغت حاصل کے بعد ’’دفتر تعاون برائے دعوت و ارشاد سلطانہ ‘‘ میں دعوتی سر گرمیوں میں مصروف ہو گئے اور برابر اس عمل میں لگے رہے اور ہر ذمے داری کو بحسن وخوبی انجام دیتے رہے آپ نے اس دوران مختلف علمی ودعوتی کام

انجام دیں جو مختصراً مندرجہ ذیل ہے :۔

۱ :۔ ریاض کی کئی مسجدوں میں مختلف علمی موضوعات پہ درس دیناجس میں کچھ مفید اور قابل ذکردروس مندرجہ ذیل ہیں۔
الف :۔ کتاب التوحید شیخ محمد التیمی کی تالیف کردہ جامع الفاروق غبیراء ریاض میں ۔

ب : ۔ ’’ خذ عقیدتک من الکتاب والسنۃ‘‘ شیخ محمد جمیل زینو حفظہ اللہ کی تالیف کردہ مسجد ابن الامیر (سلطانہ میں)۔

ج : ۔ درس ’’تجلیات نبوت‘‘ شیخ صفی الرحمن مبارکپوریؒ کی تالیف کردہ کتاب۔

 

د :۔ درس ’’صفۃ صلاۃ النبی ﷺ‘‘ شیخ عبد العزیز بن باز ؒ کی تالیف کردہ کتاب۔

ہ :۔ درس ’’صلاۃ المؤمن‘‘ شیخ سعید بن وہف قحطانی حفظہ اللہ کی تالیف کردہ کتاب۔

۲ ۔ متعدد مسجدوں اورکمپنیوں میں کئی موضوعات پر لکچر دینا اور دینی کاموں پہ لوگوں کو رغبت دلاتے رہنا۔

۳۔ انفرادی اور اجتماعی طور پہ غیر مسلموں کو دعوت اسلام پیش کرنا اور انکے اعتراضات کا جواب دینا نتیجتاً الحمد للہ کئی لوگ قبول اسلام کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔

۴ : ۔ ہندوستانی وپاکستانی اردو داں بچے وبچیوں کے لئے گذشتہ تین سالوں سے دورۂ شرعیہ کا منعقد کرناجسکی تفصیل حسب ذیل ہے ۔

(۱) پہلا دورۂ شرعیہ: گرمی کی چھٹیوں میں ۱۵؍۶ تا ۲۷؍۷؍۱۴۲۸ ؁ھ موافق ۳۰؍۶ تا ۱۰؍۸؍۲۰۰۷ ؁ء جامع الفاروق (غبیراء ریاض) میں۔

 

(۲) دوسرا دورۂ شرعیہ : ۱؍۸ تا ۳۰؍۸؍۱۴۲۹ ؁ھ موافق ۲؍۸ تا ۳۱؍۸؍۲۰۰۸ ؁ء دو جگہوں پہ منعقد ہوا پہلا جامع الفاروق (غبیراء) اور دوسرا مسجد الکلیۃ (الوزارات) اور دار عاتکہ بنت عبدالمطلب میں۔

 

(۳) تیسرا دورۂ شرعیہ : ۳؍۸ تا ۲۸؍۸؍۱۴۳۰ ؁ھ موافق ۲۵ ؍۷ تا ۱۹؍۸؍۲۰۰۹ ؁ء جامع الفاروق (غبیراء) اور ’’دار نسائیہ‘‘ میں۔
۵ ۔ حج وعمرہ کرنے والوں کی رہنمائی کے لئے حج وعمرہ کا سفر کرنا۔

 

۶۔اسکے علاوہ دیگر کئی دعوتی دفتر کے ساتھ اندرون وبیرون ریاض تعاون کرنا۔

۷۔ دفتر تعاون برائے دعوت وارشاد ربوہ کے شرعی کورسیز میں حصہ لینا اور مسلسل گیارہ سالوں سے درس دینا۔

۸۔ عربی واردو زبان میں شائع مختلف کتا بوں کی مراجعہ وتدقیق کرنا۔

 

 

۹۔ عربی لکچروں کا اردو میں براہ راست (فوری) ترجمہ کرنا۔

۱۰۔مکاتب دعوہ کی وہ محفلیں جو کہ نئے اسلام قبول کرنے والوں کی مناسبت سے منعقد کیجاتی ہیں اس میں شرکت کرنااور پروگرام پیش کرنا۔

۱۱۔ مکاتب دعوہ کے کئی پروگرام وٹریننگ کیمپ میں شرکت کرنا، اور تقریریں پیش کرنا۔

۱۲۔ علاوہ ازیں نشر واشاعت اور مفاد عامہ کے لئے آپ کے کئی اہم دروس اور خطابات کی ریکارڈنگ ہوئی ان میں سے بعض ریکارڈنگس کی تفصیل حسب ذیل ہے:۔

الف :۔ شیخ مجدد محمد التیمی رحمہ اللہ کی تالیف کردہ کتاب ( کتاب التوحید ) کے کئی دروس کی ریکارڈنگ ہوئی جسکی تشریح وتوضیح میں آپ نے مکمل تین سال جامع الفاروق (غبیراء) میں صرف کیا جسکی ابتداء ۲۵؍۶؍۱۴۲۴ ؁ھ یوم جمعہ سے ہوئی اور یہ سلسلہ ۲۱؍۵؍۱۴۲۸ ؁ھ یوم جمعرات اختتام پذیر ہوا۔

ب : ۔ خطاب بعنوان ’’وما قدروا اللہ حق قدرہ ‘‘ کی ریکارڈنگ۔

ج : ۔ خطاب بعنوان ’’منزلۃ الائمۃ الاربعۃ فی الامۃ‘‘ (امت میں چاروں امام کی حیثیت)۔

د :۔ خطاب بعنوان ’’صفۃ الوضوء والغسل‘‘ (وضو اور غسل کا طریقہ)۔

ہ :۔ مادۃ التوحید کی ریکارڈنگ جو کہ دورۂ شرعیہ کے چاروں مستوی میں’’ دفتر تعاون برائے دعوت وارشاد ربوہ‘‘ میں مقرر کیا گیا ہے۔

۱۳۔ دفترتعاون برائے دعوت وارشاد ربوہ کے ویب سائٹ www.islamhouse.com کے ذریعہ دعوت دینا۔

۱۴۔ برادرانہ طور پہ اردو داں کمیونٹی سے ملاقات کرنا اور دینی نشستوں میں بلانا اور انہیں وعظ ونصیحت کرنا۔

چنانچہ ان دنوں ہر ہفتہ بروز جمعہ بعد نماز عشاء ’’سیرۃ النبی ﷺ‘‘ کے موضوع پر جامع الفاروق (غبیراء) میں قسط وار درس دیتے ہیں اور لوگوں کو دینی مسائل ومعاملات سے آگاہ کرتے ہیں جسکی تفصیل ہمارے ویب سائٹwww.rahejannath.net پہ دیکھ سکتے ہیں۔

 

 

آپکی بین الاقوامی دعوتی سرگرمیاں
آپ مملکت سعودی عرب کے باہر کئی ملکوں میں دعوت وتبلیغ اور نماز تراویح پڑھانے کے لئے تشریف لے گئے۔

ا:۔ شمال ہند کے مختلف موضعات اور قصبوں میں ’’مرکز تحفیظ القرآن والدعوۃ والتعلیم‘‘ ضلع سدھارتھ نگر یو پی انڈیاکے زیر نگران متعدد بار دینی اجلاس عام اور قرآن وحدیث میں مسابقہ کروانا۔

ب:۔ سعودی سفارتخانہ کی طرف سے واقع امریکہ کے شہر بوسٹن کی مسجد میں ۱۴۱۹ ؁ھ موافق۱۹۹۸ ؁ء و ۱۹۹۹ء ؁ میں نمازتراویح پڑھانے کے ساتھ ساتھ دیگر دعوتی امور کی انجام دہی۔

ج:۔ برطانیہ کے معروف شہر برمنگھم کی مسجد میں ۱۴۲۱ ؁ھ موافق ۲۰۰۰ ؁ء میں بحیثیت امام تراویح کی نماز پڑھائی۔

د:۔ ”Norway” ناروے کے شہرترمسو میں مرکز النور کی مسجد میں ۱۴۲۶ ؁ھ و ۱۴۲۷ ؁ھ ا ور ۱۴۲۸ ؁ھ میں امامت فرمائی۔

ھ:۔ ۱۴۲۹ ؁ھ میں سویڈن کے’’ اوربرو‘‘ نامی معروف شہر میں نماز تراویح اور دعوت وتبلیغ کے لئے تشریف لے گئے اور اسی سفر میں ملک ڈنمارک کے شہر کو بنہاجن میں آپ نے کئی دعوتی کام انجام دیں۔

و:۔ نماز تراویح پڑھانے کے لئے ۱۴۲۵ ؁ھ و ۱۴۳۰ ؁ھ میں یورپ کے ہی ملک آیسلینڈ تشریف لے گئے۔

ز:۔ ۱۴۲۹ ؁ھ میں ناروے کے شہر ترمسو میں تعارف اسلام کی نمائشی میلے میں شرکت فرمائی۔

آپکی علمی خدمات

 

۱

۔ کتاب’’ کشاف القناع عن متن الاقناع‘‘ کی تحقیق میں تعاون فرمایا جسکی نشر و اشاعت سعودی عرب کے وزارت عدل نے کی ہے ۔

۲

۔ سعودی عرب کے وزیر عدل شیخ عبداللہ بن محمد بن ابراہیم آل شیخ کی لائبریری کے باحث شرعی کی حیثیت سے آپ نے گرانقدر علمی خدمات انجام دی۔

۳

۔ آپکے کچھ مقالوں کی اشاعت ہندوستان کے اسلامی میگزینوں میں ہوتی ہے۔

۴

۔ آپکے بعض مقالات انٹرنیٹ کے ویب سائٹس پہ نشر ہوتے ہیں۔

۵۔ کچھ اردو اور عربی مقالے زیر طباعت ہیں جس میں آپکا ایم ۔اے کا مقالہ بنام ’’مرویات آل البیت فی فضائل الصحابۃ‘‘
بھی شامل ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

 

 

(بسم اللہ الرحمن الرحیم)

معروف داعی

 

شیخ عبد الاحد بن عبد القدوس

 

تعارف اور خدمات

ریاض کے دینی ودعوتی حلقوں میں شیخ عبد الاحد بن

عبد القدوس حفظہ اللہ کا نام محتاج تعارف نہیں ہے، شیخ

ایک بیباک خطیب، مصلح اور عقیدہ سلف صالح کے

حامل نہایت ہی سرگرم داعی ہیں، عربی اور اردو داں

طبقوں میں یکساں طور پہ مقبول ہیں، آپ کی خدمات

کا دائرہ قومی اور بین الاقومی سطح پہ چھایا ہوا ہے۔

آپ’’امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ریاض‘‘ کے

’’کلیہ اصول الدین‘‘ میں حدیث اور علوم حدیث کے
لکچر رہیں، گذشتہ گیارہ برسوں سے ’’مکتب دعوہ
وارشاد سلطانہ ریاض‘‘ کے زیر سر پرستی دعوت الی اللہ کا

فریضہ انجام دے رہے ہیں اور مرکز ’’تحفیظ القرآن
والدعوۃ والتعلیم‘‘ سدھارتھ نگر یو پی ہندوستان کے
سر پرستوں میں سے ہیں اسی طرح مرکز ثقافی اسلامی
آیسلینڈ کے مشیر بھی ہیں۔

www.rahejannath.com

Dawat-e-Ilallah Ki Fazilat

Saadat Mando Ki Zindagi

Aap ﷺ Ka Akhri Din

Ilm ki fazilat

Meelad-Un-Nabi ﷺ